
کھیل
ڈاکٹر جواز جعفری
کھیل
ایک نقطے سے شروع ھوا
نقطہ
جو کائنات تھا
میں
ان گنت صدیوں سے
اس قید میں پڑا
رہائی کے خواب بنتا تھا
تخلیق کا دروازہ کھلا
اور میں
اپنے چاروں اور
سمتیں ایجاد کرنے لگا !
وقت کا دریا
اپنے ابدی کناروں کی طرف بہنے لگا
تو منتشر ذروں میں سوئی
یگانگت نے انگڑائی لی
اور
میری ابتدا پر
مکالمہ آغاز ھوا
کوئی تو تھا
جو ذروں کے درمیان
محبت کے بیج بو رہا تھا ؟
ذروں کے دل
وفاداری سے چھلکنے لگے !
میں جانتا ھوں
اپنے مصنف کے بغیر نمائش پزیر کھیل
ایک روز بگڑ جائے گا
اور ذروں کا وصال
( کوئی وجہ بتائے بغیر )
فراق میں بدل جائے گا
میرے چاروں اور
خاک اڑتی رہ جائے گی
اور میں
سمٹ کر پھر سے
نقطہ بن جاؤں گا !
زندگی
خوب صورت ھے
فانی ھے
اور بے وقعت بھی
مٹھی بھر اجزا کا معجزہ
تازہ ترین نظم
„زمین رہائی کے وعدے سے پھر گئی“
ڈاکٹر جواز جعفری
جب قبیلے کی جواں سال لڑکیاں
میرے نام پہ قرعہ ڈالتی تھیں
تو میں نے
شہر کے قدیم ترین مکانوں کے محرابی دروازوں کے قریب
تجھے تلاش کیا
اور اپنے ساز,دل پر
(تیرے لیے)
نا آفریدہ دھنیں تخلیق کرتا رہا
میں نے پلٹ کر
اپنے شکستہ وجود کو آواز دی
اور
(تیرے لیے)
رقص کی قدیم طرزیں ایجاد کرنے لگا
تیری ایک نظر کے التفات کی خاطر
میں نے ہومر کی طویل نظمیں یاد کیں
اور اپنے سر کے ناتراشیدہ بال
ڈیلفی سے آئے خوشبودار تیل سے تر کیے
میں نے کنعان کے رنگوں سے
تیرےلیے چہرہ بنایا
مگر میرے دل کی رائیگانی
شہر کی گلیوں میں پھیل گئی !
جب شہر کی حسن پیشہ عورتیں
پانی کے گھاٹ پر بیٹھی
نامعلوم رقیبوں کے دلوں کے لیے
خنجر بناتی تھیں
تو میں نے نیلے آسمان سے اترتی سنہری شاموں میں
ہرے سمندر کی گودیوں میں تجھے تلاش کیا
(اجنبی سرزمینوں سے آئے شکستہ جہازوں کے قریب)
میرا ویران آنگن
تیرے زندگی بخش لحن کو ترستا رہا
میرے اندر محبت کے طوفان نے سر اٹھایا
تو میں نے اپنے حصے کی لہر
اپنے دامن میں بھر لی
آسمان کے نواح میں مقیم سرخ ستارے نے
میرے نام کا سندیسہ بھیجا
مگر زمین
میری رہائی کے وعدے سے پھر گئی !
میں نے نرگس پہ کرم کرتی آنکھوں کو
اجنبی خواہش کی اوٹ سے دیکھا
میرا دل
دنیا کے آخری کناروں پہ خوابیدہ
ہرے سمندروں سے جا لگا
دنیا سمٹ کر
میری مٹھی میں سما گئی
میں نے تیرے سرسبز راستے پہ
وعدے کے زرد پھول بوئے
اور تیرے قندھاری اناروں جیسے ہونٹوں کی یاد میں
اپنے چاروں اور سرخ گلاب کاشت کیے
اور بےاعتنائی کی بنجر زمینوں پر
ننگے پاؤں چل دیا !
انسانی رزمیہ
‘زمین میری مسافت کے آگے کم پڑ گئی’
ڈاکٹر جواز جعفری
آسمانوں نے میرے نام
نقل مکانی کا سندیسہ لکھا
میں نے شاہ بلوط کے سائے میں
آنسو بہاتی عورت کی زرد پیشانی پہ
الوداعی بوسہ دیا
اپنے مردے زمیں کے سپرد کیے
اور اجنبی سرزمینوں پہ
اپنے قدموں کے نشان چھوڑنے چل دیا
زمین
میری مسافت کے آگے کم پڑ گئی
میں نے اپنی تھکن اتار کر رستے پہ رکھ دی
جہاں سنگِ میل اگ آیا
میری زبان میں بھوک کا ذائقہ رینگنے لگا
میری زندگی
خوراک اور خوشبودار جسموں کی تمنا میں بسر ہوئی
میں نے جانوروں کی سیرتوں کو جانا
اور سخی مزاج پیڑوں کے آگے ہاتھ پھیلا دیے !
اس عورت کی تمنا میں
میں نے جدائی کی ان گنت شامیں بسر کیں
پرندوں کی چہکار میں اس کی آواز کے ریزے چنے
اس کے بغیر
سورج میری منڈیر سے اڑ گیا
اور دریا نے اپنا رستہ بدل لیا
میرے جسم کا چولہا بجھ گیا
میرا زندہ وجود
اس کی یاد میں مٹی ہو گیا
وقت نے میرے حصے کے اچھے دن چرا لیے
میرے پیڑ کی شاخوں سے پانی برستا رہ گیا
میں نے اس کے بغیر بارش کو منہ نہ لگایا
اپنے تعاقب میں آتی بھوک کو دیکھ کر
میں نے بارش کے نام سندیسہ لکھا
دشمن کے سیاہ دل کے لیے پتھر سے انی بنائی
اور اپنے پھٹے لباس کے لیے پیوند ایجاد کیا
قبیلے کی سب سے جہاندیدہ عورت سے
محبت کا ہنر سیکھا
اور بھوکے شیر کے مقابل ڈٹ گیا !
اپنے عارغی پڑاؤ کے سامنے
میں نے اس حسن پیشہ عورت کے لیے
گارڈینیا کے پھول بوئے
آور آسمان کے نیلے ٹکڑے سے اس کے گلابی پاؤں کے لیے فرش بنایا
میں نے اپنے پہلو میں تازہ پانی کا کنواں کھودا
اور اسے اس کی تشنگی کے نام انتساب کیا
میں نے اپنے پڑاؤ میں
اس کے نام کا آتشدان روشن کیا
شفاف چشمے کا آئنہ چلو میں بھرا
اور قبیلے کے ناتواں شخص کے لیے
بیساکھی بنانے کا خواب دیکھنے لگا
ابھی دلوں پہ اداسی کی آیت نہ اتری تھی
ابھی گھر
میری یادوں کے ورق پہ تسطیر نہ ہوا تھا
میں نے اپنا انتظار
نرسلے کی جڑوں میں انڈیلا
اور سینے کے ہرے زخم
بانسری کے نام ہدیہ کیے
میری اداسی
دل سے نکل کر ہواؤں میں سرایت کر گئی !
انسانی رزمیہ
ہمارے درمیان نوعی دیوار تھی
ڈاکٹر جواز جعفری
وہ گلابوں سے بنی پیشانی
میرے روبرو تھی
جس کے کنارے
رات کے اولین لمحوں میں
پورا چاند طلوع ہوتا تھا
اس روشن پیشانی پہ
میں نے اپنے حصے کا بوسہ تسطیر کیا
تو میرے لہو میں
دم توڑتے چراغ پھڑپھڑانے لگے
اس خوشبودار عورت کی گلابی ایڑیاں
میری شام جوگیا کر گئیں
اس نے میرے تعاقب میں آئی ہوا کو چھو کر
سبز کر دیا
اور سورج میں اپنا عکس دیکھ کر
روشنی خیرات کرنے لگی !
چاند کی روپہلی چاندنی میں
میں نے اپنے ہمعصروں کے نام
موت کا سندیسہ لکھا
غذائی سیڑھی کا سب سے بلند زینہ
میرے پاؤں میں آ گرا
میرے ہمعصر
میرے روبرو
خاک پہ پیشانیاں رگڑنے لگے
ان سجدہ ریزوں میں
آگ بھی شامل تھی !
میں نے
دہکتے شعلوں سے آتشیں جام بنایا
اور اپنی رگوں میں انڈیل لیا
میرا سویا ہوا خون
جسم میں انگڑائیاں لینے لگا
موت
مجھے حیرت سے دیکھتی رہ گئی
آنکھ کی گرہ میں پڑے
خوابوں کے ریزے جوڑ کر
میں نے آئینہ ایجاد کیا
اور اس عشق پیشہ عورت کی سبز آنکھوں سے
مکالمہ کرنے لگا
مکالمہ
جو نطق سے عاری تھا
زمین کے آخری کناروں تک پھیلے
سیاہ جنگل کے پانچویں کونے میں بیٹھ کر
میں نے اپنی شناخت کا چلہ کاٹا
تو تغیر کی زد پہ پڑے میرے جسم پر
انسانی خدوخال رینگنے لگے !
چیت کی اولین شام میں
شاہ بلوط کے مقدس سائے میں
میں نے
اس رسیلی عورت کے ہونٹوں کا شہد چکھا
اور سرسوں کے کھیت کے کنارے
اپنے حصے کا بچھونا
ایجاد کرنے لگا
ہمارے درمیان
ایک دیوار تھی
آسمان تک پھیلی نوعی دیوار
میں نے اس سرسبز جسم سے اٹھتی خوشبو کو
اپنے وجود پر مل لیا
اور چاندنی رات کے تیسرے پہر
آسمانی دیوار کے لیے
محبت کا روزن ایجاد کرنے لگا !
تازہ بہ تازہ
محبت میں نے ایجاد کی
ڈاکٹر جواز جعفری
میں نے
اپنے آبائی سیارے سے ہجرت کی
اور زمین و آسماں کے درمیان آباد ہوا
چاروں اور پھیلے مقدس پیڑوں کے جھنڈ
دیوتاؤں کے نام منسوب کیے
اپنے حصے کے پیڑ کو خیرباد کہا
اور گلاب کی پتیوں سے بنے ان پاؤں کے لیے
زمین پر پہلی پگڈنڈی ایجاد کرنے لگا
( وہ روپہلے پاؤں
جو سونا رولتی ندی میں
چاندی گھولتے تھے )
میں اس سرسبز عورت کی تمنا میں
انگنت زمانوں تک زندہ رہا
زندہ رہنے کی لگن میں
میں نے موت
اور اداسی کو شکست دی
اسے پانے کی تمنا میں
میں بپھرے طوفانوں سے ٹکرا گیا !
وقت کے خونی دریا میں
میں خشک پتے کی طرح بہتا رہا
میرے اندر
سناٹے کا حبس بڑھا
تو میرے روئیں روئیں سے
آوازیں پھوٹ پڑیں
تب میں نے بھوج پتر پہ
اس سرسبز عورت کے لیے اولین نظم تسطیر کی
اور بانس کے غمگسار جنگلوں سے اپنا درد بانٹنے لگا
وقت
میری داستاں کو
بھولی بسری کہانی میں بدلنے والا تھا
میں نے برگد کے پیڑ سے ٹیک لگا کر
طوفانوں کے رزمیے
اور مرمری جسموں کے گیت لکھے
موت
مجھے اور میرے کارناموں کو
راکھ کا ڈھیر بنانے پہ تل گئی
میں نے وقت کے گھوڑے کے لپے زین ایجاد کی
اور جان لیا
آزادی اور ہمیشگی فریب کے سوا کچھ نہیں
دنیا
آنسو بن کر میری آنکھ سے بہہ نکلی!
میں نے موجود کے آئنے میں
اپنا خدوخال سے عاری وجود دیکھا
اور کائنات کے نادیدہ کونے میں
روپوش ہو گیا
وقت کو اپنے خلاف صف آرائی کرتے دیکھ کے
میں اکیلا
فنا کے مقابل ڈٹ گیا
وقت کے قلب میں
میں نے اپنا نیزہ گاڑا
تو خدا کی آنکھیں
شام کا آسمان بن گئیں
میں نے لافانی چشمے سے چلو بھرا
زمین کے ہمجولی پیڑ
مجھے کلام کا ہنر تعلیم کرنے آ گئے
خوش آواز پرندوں نے
مجھے اپنے لحن دان کیے
اور بے نام دریا
مجھے اپنے گیت ہدیہ کرنے آ پہنچے
میں نے سارے گیت
اس عورت کے نام ہوا میں اچھال دیے
محبت نے دنیا میں میرے ساتھ جنم نہ لیا تھا
محبت ہنر ہے
جسے
بہار کی اولین صبحوں
اور ساون کی تنہا راتوں میں
میں نے اپنے آنسوؤں سے ایجاد کیا !
اس لافانی چہرے کو دیکھ کر
میں نی اپنی کمان
دریا کی لہروں کو ہدیہ کی
اور سنہرے ہرن کی کھال پر نظمیں اتارنے لگا
اس عورت کے لیے پہلی دھن ایجاد کرتے دیکھ کر
ہرے جنگلوں کے درمیان
مجھے بارش نے آ لیا
میں نے کائنات کے آخری گوشوں سے آئی آوازوں کی
سماعت کی
اپنے پاؤں کے نیچے
آگ کا دریا رکھا
اور سر سے اپنے حصے کا آسمان لپیٹ دیا
میں نے لفظوں میں آوازیں رکھیں
آوازوں میں تصویریں
اور سنگیت کا کھرج سر تراشنے لگا
میرے چاروں اور
بانس کے سریلے جنگلوں نے اپنے تان پورے چھیڑ دیے
میں نے اپنے پیچھے آنے والوں کو رستہ دیا
اور جسم کے ساتھ
روح کو خاک میں ملتے دیکھتا رہا!
میں نے وقت کے رتھ پر سواری کی
اور ابد الآباد تک ہو آیا
میں نے خدا سے ملانے والے سارے پل
مسمار کر دیے
اور محبت کی طرف جانے والے رستے پہ ہو لیا
وہ عورت
برگد کے گھنے پیڑ کی طرح
میرے وجود پہ چھا گئی
چاروں اور پھیلے ڈھاک کے جنگلوں سے
شہنائی کی آوازیں بلند ہونے لگیں
میرے اردگرد رنگ
اور تعاقب میں
آسمانی دریچوں سے آئی آوازیں تھیں
ایک دنیا میرے پاؤں کے نیچے
دوسری
میرے پہلو میں آباد تھی
اور سرخ رنگ
ہماری حفاظت پہ مامور تھا!

